غیر ملکی خیرات۔۔۔!
کبھی آپ نے غور کیا ہے؟ ہمارا ملک ترقی کیوں نہیں کرتا؟ کیونکہ ہم اپنی مدد کے لئے اغیار کے محتاج بنے بیٹھے ہیں، ہم اپنی مدد کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ہم انتظار کرتے رہتے ہیں کوئ آئے ہم پر ترس کھائے اور ہمدردی کے دو بول کہہ کر ہمارے ہاتھوں میں خیرات تھما جائے !
کیوں؟
وہ خیرات ہی تو ہوتی ہے ! جن کی غلامی سو سال تک کی جن کی ماریں کھائی جن سے لڑ کر آزادی لی،
اوہ اچھا یاد آیا،
زمانہ ماڈرن ہو گیا ہے نا وہ خیرات تھوڑی نا ہے وہ تو چیرٹی ہے، اور انگریزی کا یہ لفظ شرمندگی کو چھپا دے گا، کیوں ؟ اب کیوں نہیں برا لگ رہا؟؟ یہ بھی تو وہی انگریزی ہے جو بر صغیر میں تھی، تب اس سے مسئلہ تھا اب کیوں نہیں؟
اچھا ہاں زمانہ جدید جو ہو گیا ہے، صحیح !
اگر ہمارے ساتھ کا بندہ تکلیف میں ہے تو ہم اس کی مدد کرنے کہ بجائے اسے مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کسی غیر ملکی این-جی-او سے رابطہ کرے وہ اس کی مدد ضرور کر دیں گے، لیکن ہم نہیں کریں گے کیونکہ ہمیں خیرات لینے کی لت لگ چکی ہے۔
اصل میں زمانہ جدید ہوا یا نہیں ہوا وہ آپ جانیں ،
مجھے صرف اتنا پتہ ہے وہ باضمیر لوگ باقی نہیں رہے !
تحریر : محدثہ نقوی
No comments:
Post a Comment