Sunday, 26 May 2019
تحریر _فریال عظیم
وہ اتنی سختی سے میرا گریبان پکڑے ہوئے تھی کہ گلا دبنے کی وجہ سے آواز بند ہوگئی تھی۔
"کمبخت تجھے شرم نہ آئی اپنی اولاد سے ایسا سلوک کرتے ہوئے۔ہاۂے میں برباد ہوگئی۔"
وہ واویلا مچا ۂے ہوۓ تھی۔"بول کیوں نہیں رہا تو کچھ؟زباں بھی بیچ آیا ہے کیا اپنی؟؟؟؟
وہ ناخنوں سے میرا گلہ نوچنے لگی۔
تجھے موت آجائے۔پتہ نہیں کتنا روۂی کتنا گڑ گڑاۂی ہو گی؟تجھے رحم نہ آیا ظالم!
کتنی قیمت لگاۂی تو نے بول؟
میری بیوی چیخ رہی تھی اور اسکی آواز سارے گھر میں گونج رہی تھی۔مجھے بلکل نہیں یاد تھا کہ میری بیٹی نے کیا کیا آہ زاری کی تھی۔ہاں مگر وہ آخری جملہ جو مجھے یاد تھا اور اسکا شور باہر کے شور پر بھی حاوی تھا اور اسکے الفاظ ایسے تھے کہ کبھی میرے ایک کان سے ٹکراتے کبھی دوسرے سےاور انکی گونج سے میرا سر پھٹ رہا تھا۔اور وہ یہ تھے۔
"ابا روٹی صرف دس روپے کی بے لیکن میری زندگی کی کوۂی قیمت نہیں لگاۂی جا سکتی۔"
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment