خودی کی آڑ میں ، خود سے بے گانے لوگ
تنہا رہ جاتے ہیں وہ، کبھی جو رونق محفل تھے
انا کی بھینٹ میں، خود انا پرست سے لوگ
مان توڑ دیتے ہیں وہ، کبھی جو قابلِ اعتبار تھے
ضد کی ضد میں، خود ہی ضدی سے لوگ
نظر سے گر جاتے ہیں وہ، کبھی جو پلکوں پر تھے
غرور کی آگ میں، مغرور مغرور سے لوگ

No comments:
Post a Comment