تحریر:- فاخرہ خان
اگر ہم حقیقت پسندی کی انتہا کو بھی پہنچ جائیں جائیں۔۔۔ خود کو مضبوط کرتے کرتے چٹان کی طرح ہو جائیں۔۔۔قسمت کے فیصلوں کو تسلیم کرتے کرتے ہر درد بھول جائیں۔۔۔
اگر ہم حقیقت پسندی کی انتہا کو بھی پہنچ جائیں جائیں۔۔۔ خود کو مضبوط کرتے کرتے چٹان کی طرح ہو جائیں۔۔۔قسمت کے فیصلوں کو تسلیم کرتے کرتے ہر درد بھول جائیں۔۔۔
مگر پھر بھی معجزوں کا انتظار رہتا ہے۔۔۔
مگر پھر بھی دل حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا۔۔۔
بظاہر ہم پتھر بھی بن جائیں ، دل تو کبھی پتھر نہیں ہوتا۔۔۔
کیوں کہ کچھ رشتے بھلائےنہیں بھولتے۔۔۔
کچھ یادیں مٹاے نہیں مٹتی۔۔۔
ماں جو چلی جائے تو ۔۔۔
پھر ذندگی حسین نہیں لگتی۔۔۔
ماں جو چلی جائے تو ۔۔۔
پھر ذندگی حسین نہیں لگتی۔۔۔
No comments:
Post a Comment