تحریر :- فاخرہ خان
کبھی کبھار لہجوں کی شائستگی سے ہی دردِ جاں مٹ جاتا ہے، کسی دوا کی ضرورت نہیں پڑتی۔۔۔ اور کبھی کبھی لہجوں کی سختی ایسی جبھتی ہے کہ لاشعور تک پہنچنے لگتی ہے۔۔۔ یہ لہجے بڑے اثیر ہوتے ہیں۔۔۔ یہ دوا کا اثر بھی رکھتے ہیں اور زہر کا بھی۔۔۔
No comments:
Post a Comment