Come and join us to serve Nation, Humanity and change yourselves. پاکستان زندہ باد

Saturday, 16 February 2019

تحریر : ماریہ گردیزی

اگر تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالی جاۓ تو معلوم ہوتا ہے اُموی  دورِ اقتدار میں حق گوٸی کی اول تو کوٸی جرأت ہی نہ کرتا تھا اور جو کرتا تھا اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کروا دیا جاتا ۔ ان کے بعد بھی حالات کچھ زیاد مختلف نہ تھے۔ ستم ظریفی یہ ہے چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی یہ رسم جوں کی توں موجود ہے۔ اگر آپ ایک طالبعلم ہیں تو دیکھیں کیا آپ کو اپنے ادارے ، اپنی جماعت میں  کھل بولنے کا حق ہے؟ اگر آپ کسی تنظیم سے منسلک ہیں تو کیا آپ کو وہاں بولنے کا حق ہے؟ نیز آپ کا تعلق جہاں سے بھی ہے کیا آپ کو یہ حق حاصل ہے؟ نہیں ، یقیناً نہیں۔ وقت کے یزید آپ کو یہ حق کبھی نہیں دیں گے۔ حق پر قاٸم رہیں۔ آپ حق پر چاہے جتنے بھی کمزور نظر آٸیں آپ کمزور کبھی
نہیں ہوتے کیونکہ  ”حق“ خود ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ تاریخ گواہ ہے جب بھی حق کو چھپانے کی کوشش کی گٸی وہ پہلے سے زیادہ ابھرا۔ یہ حق ہی  کی طاقت ہے کہ ٧٢ لوگ کٹنے کے بعد بھی زندہ ہیں اور ان  کے مقابل ٣٠٠٠٠ کی
 ہتھیاروں سے لیس فوج کا نام لینے کو بھی کوٸی نہیں بچا۔
جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
اٹھو  مرنے  کا حق  استعمال  کرو
ذلت  کے  جینے سے  مرنا  بہتر ہے
مٹ جاٶ  یا قصرِ ستم پامال  کرو
(حبیب جالب)

1 comment: