تحریر :- فاخرہ خان
خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان یے، مگر ہر بندہ اس کو سمجھنے اورر بولنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ جس نے معرفت پائی اس نے اپنا وجود مٹا دیا، جب وجود مٹ جاتا یے تو بندہ حقیقت کی اصل پاتا ہے، بس پھر الفاظ نہیں خاموشیاں بولتی اور سنائی دیتی ہیں۔۔۔
No comments:
Post a Comment