تحریر:- فاخرہ خان
دنیا میں آنے والا ہر شخص مسافر ہے، کسی کا سفر بہت مختصر ہے اور کسی کا طویل ہے۔ کسی کی راہ کٹھن اور دشوار ہے ،کسی کی شاہراہ بہت ہی خوبصورت بھی ہے۔ کہیں کوئی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے اور کوئی اپنا سفر پرندوں کی طرح اڑتے اڑتے طے کر لیتا ہے۔ کسی کی راہ میں خار ہیں اور کسی کے رستے میں گلاب۔ کسی کے حصے میں ملے جلے راستے بھی آتے ہیں۔
راستے بھلے ہی سب کے الگ الگ ہوں مگر پہلی منزل سب کی ایک ہے "قبر"۔جس کے حصے میں جو راستہ آ جائے اس پر اس کا بس نہیں مگر اس راہ پر چلتے ہوئے خود کو بچا بچا کر چلنا بہرحال آپ کے اختیار میں ہے۔ اصل امتحان تو اس بات کا ہے کہ مشکل راہ پانے والے راستے میں دم توڑے بنا منزل تک کیسے پہنچتے ہیں اور آسائش پانے والے مشکل شاہراہوں کا رخ اپنی جانب کرنے میں کس حد تک کوشش کرتے ہیں، درحقیقت زیادہ مشکل سفر آسائش والوں کا ہے۔
No comments:
Post a Comment