تحریر _فریال عظیم
۔میں نے اپنی گاؤں کی زمینوں کے کاغذات لینے تھے۔اور بیوی بچوں کے ساتھ ملک چھوڑ رہا تھا۔میں ایک نافرمان شخص، ہسپتال تو دور پچھلے چھے سالوں میں گھر کا رخ نہیں کیا تھا اور نہ ہی ابو کو خرچ بھیجا.
ڈرتے ڈرتے آۂی سی یو میں داخل ہوا۔
"کمبخت دفع ہو جا یہاں سے"۔چچا چلاۂے ۔
میرےابو کینسر کے مرض میں مبتلا بستر پر آخری سانسیں لے رہے تھے نکلتے ہوئے غلطی سے نظر ان پر جا پڑی۔اب جب کہ وہ قریب المرگ تھے پتہ نہیں کیسے ترس آ رہا تھا۔ذرد چہرہ،لاغر جسم۔ میں قریب جا بیٹھا۔انھوں نے اٹھنا چاہا میں تھوڑا اور نیچے جھک گیا۔انھوں نے جھٹ سے مجھے گلے لگا لیا۔ھمارے درمیان شکایتیں نہیں تھیں بس طلب ہی طلب تھی۔ توانا بازو جنہوں نے مجھے پروان چڑھایا اتنے بے جان تھے کہ گرفت تھی ہی نہیں وہ پوری طاقت لگا رہے تھے میری پیٹھ سہلانے لگے۔ ہڈیاں تھوڑی چھبنے لگیں تھیں لیکن وہ لمس پوری طرح میرے وجود میں سرایت کر رہا تھا۔
No comments:
Post a Comment