نظر سے نظر ملا کر بات کرنے پر
یہاں گستاخی کے فتوے لگتے ہیں
حیا کے تقاضوں کو پرکھتے نہیں
شان میں گستاخی مگر سمجھتے ہیں
لہجے کی پرواہ بھی ہے کسے حضور
مگر کرئیے کیا کہ من کی کڑواہٹ
ذبان کی مٹھاس سے ذائل کرتے ہیں
اپنے گریبان میں کبھی جھانکتے نہیں
اوروں کی فکر میں ہلکان ہوتے ہیں
چار دن کی ذندگی ہے، مختصر بہت
کریں کچھ تو ایسا ہو کہ نام رہے باقی
(فاخرہ خان)
No comments:
Post a Comment