Come and join us to serve Nation, Humanity and change yourselves. پاکستان زندہ باد

Saturday, 14 December 2019

حال دل

میں کیسے بھول جاؤں وہ آخری شب جس کی صبح نے مجھ سے میری ماں کی کوکھ چھینی تھی۔۔۔  وہ ایسا بے رحم اجالا تھا کہ جس کے ہونے سے مجھے اندھیرا اچھا لگنے لگا، وہ ایسا سویرا تھا جو میرے دل کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تاریک کر گیا۔۔۔ میں نہیں بھول سکتی وہ وقت جب سفید کفن میں لپٹی ہوئی میری ماں، مئی کی گرمی میں بھی سرد پڑی تھی،  مجھے یاد ہے وہ وقت جب آنسوؤں کے سیلاب کو میں نے گھونٹ گھونٹ کر کہ اپنے حلق سے اتارا تھا اس لیے کہ میرا رونا میرے ابو، میرے بہن بھائیوں کو تکلیف نہ دے۔۔۔  مجھے یہ بھی احساس تھا کہ میں نے اب بڑا بننا ہے، اگرچہ کہ میں گھر کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بچی تھی، مگر میں جانتی تھی کہ اب میں چھوٹی نہیں رہی، میں اس وقت کو کیسے بھول جاؤں جس نے مجھے یک دم سے بڑا کر دیا، میرا بچپن لوٹ لیا۔۔۔  میں تو ماں کے ساتھ لپک کر سونے والی بچی تھی، اپنا سر ماں کی گود میں رکھ کر بیٹھے بیٹھے بھی سو جاتی تھی، میں وقت کی بے رحمی کیسے بھول جاؤں کہ ایک بار بھی وقت پلٹا  نہیں کہ جب میں نے کتنی ہی راتیں کروٹیں لیتے لیتے جاگتے ہوئے گزاری۔۔۔ میں یہ کیسے بھولوں جب اپنے ہاتھوں سے نوالہ بنا بنا کر میری ماں بڑے ہی لاڈ سے میرے منہ میں ڈالتی تھی، وقت نے پھر  کبھی خیال نہ کیا کہ میں کب کب بھوکی سو جاتی رہی۔۔۔ سب یاد ہے مجھے، ہر گزرا ہو لمحہ میرے ذہن پہ نقش ہے، جو ہمیشہ رہےگا۔۔۔ وقت گزرتا گیا، گزر رہا ہے اور گزرتا رہے گا، مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کہ جو سبق وقت سکھاتا ہے وہ کوئی اور نہیں سکھاتا۔ میں نے بھی وقت سے بہت کچھ سیکھا ہے اور سیکھ رہی ہوں۔
 مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ اللّٰہ پاک ہم سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، مگر میں 
ہمیشہ محسوس کرتی ہوں کہ اللّٰہ پاک مجھ سے کتنا  ذیادہ پیار کرتے ہیں۔۔۔  بس اسی لیے میں وقت کی ہر خطا معاف کرتی ہوں۔ 
                                            (فاخرہ خان)

No comments:

Post a Comment