میری بھی اک گنگا ہے
وہ اکثر الٹی بہتی ہے
نائو بھی اس میں
کبھی کبھار چلتی ہے
کنکر مارو دوں تو
پھر رک ہی جاتی ہے
نرالے ہی انداز ہیں
نخرے بھی کم نہیں
چلو جو بھر لوں پانی
بس پھر تو شامت آنی
پاؤں رکھ کر بیچ میں
جو میں بیٹھ جائوں
بس سمجھو پھر یہ کہ
خود میں بھی ڈوبوں
بات کروں تو خفگی
کچھ نہ بولوں تو
پھر بھی ہو ناراض
میری بھی اک گنگا ہے
وہ اکثر الٹی بہتی ہے
(فاخرہ خان)
No comments:
Post a Comment