تحریر:سیدہ مومنہ نقوی
یہ میری اٹھارویں تحریر ہے جو سکوپ کے بارے میں ہے۔اجکل سب سے بڑا مسلہ لوگوں کی سوچ کا ہے۔۔" بیٹا ! اس سبجکٹ میں نہ جاؤ اس کا سکوپ نہیں"اور بچے اپنی دلچسپی چھوڑ کر robort بن جاتے ہیں۔
میرے خیال میں انسان اپنا سکوپ خود بناتا ہے۔۔جیسے مظفرآباد میں دیکھا جائے تو ہزار پکوڑے تلنے والے ہوں گے لیکن اپنا سکوپ وہی بناتا ہے جو سب سے اچھے پکوڑے تلتا ہے۔۔اسی طرح اگر ہم دوسری طرف دیکھیں تو پاکستان میں تقریباً سو میڈیکل کالج ہوں گے جن میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ڈاکٹر بن کے نکلتے ہیں لیکن ان لاکھوں میں صرف وہی سکوپ بناتا ہے جسکی اس سبجکٹ میں انٹرسٹ ہوتا ہے۔۔۔ایسے ہی ہزاروں کی تعداد میں سائنسز کے لاکھوں لوگ ہر سال فارغ ہوتے ہیں لیکن ان میں سکوپ صرف وہی بناتے ہیں جنہوں نے محنت کی ہوئی ہوتی ہے۔۔۔یہ سب لوگ اپنی محنت اور اس سے بھی زیادہ اسکے شوق ہوتا ہے۔۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب آپکی دلچسپی کی بات ہوتی۔۔جس چیز میں دلچسپی لو گے سب سے آگے جاؤ گے۔child psychology میں میں نے یہ پڑھا یا سیکھا کہ بچے کو اس کے interest میں ہی motivate کرو۔۔اگر ایسا نہیں ہو گا تو بچہ Robert بن جائے گا جس کو جس طرف موڑو گے وہ مڑتا چلا جائے گا لیکن سکوپ نہیں بنا سکے گا۔۔۔
بس کنویں کا مینڈک نہیں بنانا چاہیے۔۔
No comments:
Post a Comment