![]() |
| تحریر:- بشری ذوالفقار |
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جب ہم کوئی کام کرنے کا پختہ ارادہ کر لیں تو ہمیں منزل مقصود تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اگر ہم پختہ ارادوں کے مالک ہوں گے تو ہماری ذات دریا کی مانند ہو گی۔
کسی نے کیا خوب لکھا ہے
"ہمارے راستوں پہ کوئی کیسے حق لگائے گا
دریا راستہ اپنا خود بناتا ہے
چٹانیں لاکھ بھاری ہوں
بھلے سنگ لاکھ ساری ہوں
ہم ان کو کاٹ دیتے ہیں
ہم ان کو چیر جاتے ہیں
کبھی پتھر سے ٹکرا کر
کبھی بل کھا کر، لہرا کر
کسی میدان میں سستا کر
نسیماں سا گزر جاتا ہے
یہ رکتا نہیں لیکن
اگر چلنا مقدر ہے
تو رستے کی رکاوٹ کا خطر کیسا
اسے رکنا نہیں آتا
اسے منزل پہ جانا ہے"

No comments:
Post a Comment