تحریر:- فاخرہ خان
کبھی یوں ہی بیٹھے بیٹھے رو دیے
کبھی یوں ہی بیٹھے بیٹھے ہنس دیے
کبھی شام ڈھلتے ہی سو دیے
کبھی رات بھر نہ سو پائے
کبھی تنہا کہیں چل پڑے
کبھی ہجوم کی تلاش ہو
کبھی آنگن میں ٹہلتے رہے
کبھی ہلنے کی سکت نہ ہو
کبھی خود سے بھی روٹھ گئے
کبھی رفیق سے بھی گلہ نہیں
یہی زندگی کا طریق ہے روحی
کبھی جیت گئے کبھی ہار گئے
No comments:
Post a Comment