Come and join us to serve Nation, Humanity and change yourselves. پاکستان زندہ باد

Monday, 21 January 2019

تحریر :- فاخرہ خان
آنکھوں میں خوشیوں کے خواب سجائے ، دلہن دیکھنے کی چاہ میں یہ ننھے بچے چاچو کی شادی کے لیے اپنے والدین کے ہمراہ سفر میں تھے، کس کو خبر  تھی کہ  انہیں دلہن نہیں جنازے دکھائے جائیں گے، ہوائی فائر نہیں بلکہ اصلی گولیوں سے ان کے والدین ان کی آنکھوں کے سامنے مارے جائیں گے۔۔۔ 
سات سالہ ہادیہ ہاتوں میں اب  بھی فیڈر تھامے کھڑی ہے، اسے کیا خبر کہ اب فیڈر ہاتھوں  سے چھوڑ کر ذندگی کی تلخیوں کو گلے لگانا ہو گا۔ مزے دار گرم دودھ نہیں بلکہ  اب زمانے کے کڑوے گھونٹ بھرنے پڑیں گے۔  

اس ملک میں کوئی بھی محفوظ نہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نعرہ لگانے والو۔۔۔ اسالامی جمہوریت کا مطلب بھی جانتے ہو؟؟ ارے اسلامی جمہوریت تو وہ تھی جہاں بکری اور شیر ایک گھاٹ سے پانی پیتے تھے۔۔۔
کون ہے قصوروار ، کس کو مورد الزام ٹھہرائیں؟؟؟
آخر کب تک اس ملک میں  بے گناہوں کی لاشیں بکھیری جائیں گی؟؟
کب تک سڑکوں سے جنازے اٹھائے جائیں گے؟؟؟
کب تک ہم ظلم کے خلاف بے بسی سے قلم چلاتے رہیں گے؟؟؟
کب تک احتجاج برائے احتجاج جاری رہے گا؟؟؟
کب تک ہم اپنے گھروں میں بیٹھ کر آنسو بہاتے رہیں گے؟؟؟
کب تک میڈیا کا کاروبار لال سرخیوں سے چلایا جائے گا؟؟؟
اور کب تک حکمران عوام کو  یتیموں، بیواؤں، بے اولادوں کا خطاب دے کر بدلے میں اپنی جائیدادیں بناتی رہے گی؟؟؟
آخر کب تک؟؟؟
آخر کب تک؟؟؟





1 comment:

  1. ظلم کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونا ہوگا ورنہ کل کو ہم بھی کسی دراندازی کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

    ReplyDelete